سوال
وضو کن کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے؟
مختصر جواب
وضو ان چیزوں سے ٹوٹتا ہے:
- آگے یا پیچھے کے راستے سے کوئی چیز نکلنا، جیسے پیشاب، پاخانہ یا ہوا
- مذی یا ودی کا نکلنا
- بدن کے کسی حصے سے خون یا پیپ نکل کر بہہ جانا
- منہ بھر کر قے آنا
- لیٹ کر یا کسی چیز سے ٹیک لگا کر سو جانا
- بے ہوشی، جنون یا نشے سے عقل کا زائل ہو جانا
- بالغ کا نماز میں قہقہہ لگا کر ہنسنا
دلیل
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا ۚ وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا﴾
حوالہ: سورۃ المائدہ، آیت: ۶
وضاحت
اصل اصول: وضو اسی چیز پر لازم آتا ہے جو بدن سے خارج ہو؛ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے: «الوضوء مما خرج، وليس مما دخل» وضو نکلنے والی چیز سے ہوتا ہے، داخل ہونے والی سے نہیں۔
حوالہ: مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الطہارات، باب الوضوء مما مست النار، حدیث: ۵۳۹
آگے پیچھے کے راستوں سے خروج: پیشاب، پاخانہ، مذی اور ودی کا نکلنا ناقض ہے؛ قرآن نے قضائے حاجت کو (غائط سے آنے کو) حدث قرار دیا ہے۔
حوالہ: سورۃ المائدہ، آیت: ۶
شک و وسوسہ: محض شک یا خیال سے وضو نہیں ٹوٹتا؛ جب تک یقین نہ ہو وضو باقی رہتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: آدمی اس وقت تک نماز سے نہ پھرے جب تک آواز نہ سن لے یا بو نہ پا لے۔
حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الوضوء، باب من لم یر الوضوء إلا من المخرجین، حدیث: ۱۳۷؛ صحیح مسلم، کتاب الحیض، حدیث: ۳۶۱
خون و پیپ: خون یا پیپ زخم سے نکل کر اپنی جگہ سے بہہ جائے تو وضو ٹوٹتا ہے، محض اُبھرا ہوا خون ناقض نہیں؛ حضور ﷺ کا ارشاد ہے: خون کے ایک دو قطروں میں وضو نہیں، وضو اسی میں ہے جو خون بہنے والا ہو۔ کان یا آنکھ سے درد کے ساتھ نکلنے والا پیپ بھی اسی حکم میں ہے۔
حوالہ: سنن الدارقطنی، کتاب الطہارۃ، باب فی الوضوء من الخارج من البدن کالرعاف والقیء والحجامۃ ونحوہ، حدیث: ۵۸۲، ۵۸۳
قے: حضور ﷺ نے فرمایا: جسے قے، نکسیر، اُبکائی یا مذی پیش آئے وہ لوٹے، وضو کرے، پھر اپنی نماز پر بنا کرے؛ فقہاء نے ناقض قے کی حد منہ بھر مقرر کی، کیونکہ نجاست معدے میں ہوتی ہے اور منہ بھر قے ہی معدے سے آتی ہے؛ خالص بلغم ناقض نہیں کیونکہ اس میں نجاست سرایت نہیں کرتی۔
حوالہ: سنن ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا، باب ما جاء فی البناء علی الصلاۃ، حدیث: ۱۲۲۱
نیند: حضور ﷺ نے فرمایا: وضو اسی پر ہے جو لیٹ کر سوئے، کیونکہ لیٹنے سے اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں؛ اسی لیے بیٹھے یا کھڑے سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، کیونکہ ان حالتوں میں خروج کا گمان نہیں ہوتا۔
حوالہ: سنن ابی داؤد، کتاب الطہارۃ، باب فی الوضوء من النوم، حدیث: ۲۰۳
بے ہوشی و نشہ: مرضِ وفات میں حضور ﷺ پر بے ہوشی طاری ہوئی تو ہوش آنے پر آپ ﷺ نے وضو فرمایا؛ بے ہوشی نیند سے بڑھ کر ہے، اس لیے بے ہوشی، جنون اور نشہ ہر حالت میں ناقض ہیں۔
حوالہ: صحیح بخاری و صحیح مسلم، روایتِ مرضِ وفات از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
قہقہہ: حضرت ابو العالیہ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ایک نابینا آدمی نماز کی حالت میں کنویں میں گر گیا، بعض صحابہ ہنس پڑے تو حضور ﷺ نے فرمایا: جو ہنسا وہ وضو اور نماز دونوں لوٹائے۔ اسی لیے بالغ کا رکوع و سجود والی نماز میں آواز کے ساتھ ہنسنا ناقض ہے؛ بچے کا قہقہہ ناقض نہیں۔
حوالہ: سنن الدارقطنی، کتاب الطہارۃ، باب احادیث القہقہۃ فی الصلاۃ وعللہا؛ مصنف عبد الرزاق، حدیث: ۳۷۶۱؛ المراسیل لابی داؤد، حدیث: ۸
یہ چیزیں ناقض نہیں ہیں: بیوی کو ہاتھ لگانا، کیونکہ قرآن کے لفظ «لامستم النساء» سے مراد جماع ہے، جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لمس سے مراد جماع ہے، لیکن اللہ تعالیٰ پردہ پوشی اور کنایہ پسند فرماتا ہے؛ اسی طرح تھوڑی قے اور نہ بہنے والا خون بھی ناقض نہیں۔
حوالہ: تفسیر الطبری، سورۃ النساء، آیت: ۴۳ کی تفسیر، آثار: ۹۵۸۱، ۹۵۸۲؛ تفسیر ابن ابی حاتم، سورۃ النساء، آیت: ۴۳
حکمت
نماز اللہ تعالیٰ سے مناجات ہے اور مناجات کی پہلی شرط ظاہری و باطنی پاکیزگی ہے؛ حضور ﷺ نے فرمایا: «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ» طہارت آدھا ایمان ہے۔
حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب فضل الوضوء، حدیث: ۲۲۳
وضو ٹوٹنے کی حدیں اتنی واضح رکھی گئیں کہ عبادت میں وسوسے کی گنجائش نہ رہے؛ یقین پر حکم لگا کر شریعت نے ہر مسلمان کو شک کے عذاب سے بچا لیا۔ اور ہر نماز کے لیے تازہ وضو کی فضیلت یہ بھی ہے کہ وضو کے پانی کے قطروں کے ساتھ بندے کے گناہ جھڑتے جاتے ہیں۔
حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب خروج الخطایا مع ماء الوضوء، حدیث: ۲۴۴
یوں یہ احکام محض پابندیاں نہیں، بندے کو بار بار پاکیزگی اور اللہ کی حاضری کے قابل بنانے کا نظام ہیں۔
(اختتامیہ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
زیرِ نگرانی: مفتی محمد طاہر رضا قادری