سوال
وضو میں کتنے فرائض ہیں؟ اگر ان میں سے کوئی فرض رہ جائے تو وضو کا کیا حکم ہے؟
مختصر جواب
وضو میں چار فرائض ہیں: (۱) چہرہ دھونا (۲) دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا (۳) سر کے چوتھے حصے کا مسح کرنا (۴) دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا۔ ان میں سے کوئی ایک فرض بھی رہ جائے تو وضو نہیں ہوگا، اور اس وضو سے پڑھی گئی نماز بھی ادا نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ وضو میں کوئی واجب نہیں ہے؛ فرائض کے علاوہ باقی اعمال سنت یا مستحب ہیں۔
دلیل
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ (سورۃ المائدہ: ۶)
وضاحت
تمام صحابہ و تابعین و علماء بلکہ امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وضو کے فرائض چار ہیں، اور رسول اللہ ﷺ نے بھی وضو کرتے ہوئے کبھی بھی ان چار فرائض میں سے کسی فرض کو نہیں چھوڑا؛ اس سے معلوم ہوا کہ یہ چاروں چیزیں وضو میں فرض ہیں۔
جواب از: مفتی محمد طاہر رضا قادری — نور قرآن اکیڈمی